HEALTH TIPS IN URDU کھانسی کے دوران چند چیزوں سے احتیاط ضروری

 

ماہرین کے مطابق کھانسی کو دور کرنے کے لیے ضروری ہے کہ ادرک ،شہد، وٹامن سی الائچی اور دارچینی کا استعمال مفید ہے جب کہ ساتھ ہی ماہرین کھانسی کے دوران بعض چیزوں سے بچنے کا بھی مشورہ دیتے ہیں۔

دودھ کے استعمال سے پرہیز:

دوران کھانسی دودھ کا استعمال مضر ہے اس لیے اس سے پرہیز کرنا چاہیے۔ دودھ پینے سے بلغم میں اضافہ ہوتا ہے جو کہ پھیپھڑوں اور سینے کی تکلیف کا باعث بنتا ہے اور ساتھ ہی اس سے گلے میں خرابی پیدا ہوجاتی ہے۔

ماہرین صحت مشورہ دیتے ہیں کہ کھانسی کے دوران تمام ڈیری اشیا سے احتیاط کرنا چاہیے۔

پانی زیادہ پئیں:

کھانسی کے دوران پانی کا استعمال زیادہ کریں اور جسم میں پانی کی کمی نہ ہونے دیں۔ پانی کا زیادہ استعمال گلے کو خشک رکھنے سے بچاتا ہے جب کہ نیم گرم پانی پینے سے گلے کی خشکی بھی دور ہوتی ہے اور ساتھ ہی گلے کی سوجن بھی ختم ہوجاتی ہے۔

کھانسی کے دوران چائے کافی اور ایسے مشروبات سے پرہیز کرنا چاہیئے جن میں کیفین شامل ہو ۔

میٹھی اشیا سے پرہیز:

دوران کھانسی زیادہ میٹھی غذا نہیں کھانی چاہیے کیوں کہ اس سے کھانسی میں اضافہ ہوتا ہے۔وائٹ بریڈ ،پاستہ، چپس اور مصنوعی ذائقے کی مٹھائیوں کے بجائے پتے والی سبزیوں کا استعمال کرنا چاہیے۔

تلی ہوئی غذا نہ کھائیں:

کھانسی کے دوران تلی ہوئی غذا کا سختی سے پرہھیز کرنا چاہیئے کیونکہ تلی ہوئی چیزیں گلے میں چکناہٹ پیدا کردیتی ہیں جو مزید تکلیف کا سبب بنتا ہے۔

کھٹی چیزوں سے پرہیز:

ماہرین کے مطابق دوران کھانسی کھٹی چیزیں کھانے اور پینے سے پرہیز کرناچاہیے کیونکہ اس میں موجود ایسیڈک ایسڈ  گلے کے غدود کے لیے نقصان دہ ثابت ہوتا ہے۔

ماہرین اور ڈاکٹرز کا کہنا ہے کہ علاج سے بہتر پرہیز ہے اس لیےکوشش کی جائے کہ دوران کھانسی ان تمام اشیاء سے پرہیز کیا جائے۔

         دانتوں اور مسوڑھوں کی تکلیف سے بچنے کے نسخے

اکثر اوقات ہم کھانے پینے میں بے احتیاطی سے کام لیتے ہیں اور ٹھنڈا گرم کا ایک ساتھ استعمال کرلیتے ہیں جس سے دانتوں کے ساتھ مسوڑھوں میں بھی تکلیف کی شکایت ہوتی ہے لیکن اب ماہرین نے گھریلوں ٹوٹکوں سے اس تکلیف کا حل تلاش کرلیا ہے۔

مسوڑھوں میں جلن، درد ،سوجن یا خون نکلنے کی شکایت وٹامن کی کمی، ہارمونز میں تبدیلی، ذیابیطس اور سکروی امراض کے باعث پیدا ہوتی ہے۔ دانتوں اور مسوڑھوں کی اکثر تکلیف دانتوں پر برش غلط طریقے سے استعمال کرنا یا پھر برش نا کرنے کی صورت میں بھی رونما ہوجاتی ہیں جس کے باعث دانتوں میں پیلاہٹ اور کیڑا بھی لگ جاتا ہے۔

دانتوں اور مسوڑھوں کو مضبوط رکھنے کے لیے ضروری ہے کہ صحت مند خوراک کا انتخاب کیا جائے۔

غذا کا درست تعین:

ایسی خوراک لینے سے پرہیز کرنا چاہیے جس میں مٹھاس زیادہ مقدار میں شامل ہو کیونکہ زیادہ مٹھاس مسوڑھوں اور دانتوں کے لیے مضر ہے اس سے دانت اور مسوڑھے کمزور ہوجاتے ہیں پھر دانتوں میں گندگی پیلاہٹ اور کیڑا لگنے لگتا ہے۔

اس سے بچاو کے لیے لازمی ہے کہ کوئی بھی میٹھی چیز کھانے کے بعد دانتوں کی صفائی کی جائے جب کہ مسوڑھوں اور دانتوں کے لیے ضروری ہے کہ پانی خوب پیا جائے۔

کیلشیم:

صحت مند رہنے کے لیے درست غذا کا انتخاب کرنا انتہائی ضروری ہوتا ہے ۔اگر غذا ہی ایسی کھائی جائے جس سے کیلشیم پروٹین کی فراہمی نا ہو تو صحت متاثر ہوجاتی ہے۔ کیلشیم کی کمی مسوڑھوں اور دانتوں کی جڑوں کو کمزور کر دیتی ہے جس کے نتیجے میں مسوڑھوں میں درد، سوجن اور دیگر شکایات سے دوچار ہونا پڑتا ہے۔

دانتوں اور مسوڑھوں کی حفاظت کے لیے دودھ پینا چاہیے کیوں کہ دودھ وافر مقدار میں کیلشیم فراہم کرتا ہے ۔

نمکین پانی:

نمکین پانی سے دانتوں کو صاف کرنا ایک پرانا ٹوٹکا ہے جو کہ انتہائی مفید ہے اس سے دانتوں کی پیلاہٹ اور بیکٹیریا دور ہوتا ہے۔ نمکین پانی میں بیکنگ سوڈا اور لیمو ملا کر دانتوں کی صفائی کی جائے تو مسوڑھوں کی تکلیف بھی دور ہوتی ہے ساتھ ہی دانتوں کی پیلاہٹ بھی چلی جاتی ہے۔

رسیلے پھلوں کا استعمال کرنا:

وٹامن سی کی کمی کی وجہ سے مسوڑھوں سے خون آنے لگتا ہے جس سے منہ میں بدبو بھی پیدا ہو جاتی ہے کیوں کہ مسوڑھوں میں بہت زیادہ خون آنے کی وجہ سے جگر میں خرابی ہوجاتی ہے۔

وٹامن سی کی کمی کو پورا کرنے کے لیے ضروری ہے کہ رسیلے پھلوں کی خوراک لی جائے ۔نارنجی، تربوز، لیمو، آملہ، ناشپتی یہ تمام پھل وٹامن سی کی کمی کو دور کرتے ہیں۔ان کے استعمال سے دانت اور مسوڑھے مضبوط ہوتے ہیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *